28 جنوری 2012 - 20:30

کراچی ۔۔۔۔۔۔ سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ گیس کی قلت، تیل کی بلند قیمتوں اور زرعی اجناس کی عالمی قےمتوں میں کمی سمیت مختلف عوامل کے سبب 2012ءکے دوران جی ڈی پی کا 4.2 فےصد ہدف حاصل کرنا دشوار ہے، توانائی کی قیمت میں اضافے، پاکستانی روپے کی حالیہ کمزوری اور ”بیس افیکٹ“ سے آئندہ مہینوں میں مہنگائی مزےد بڑھ سکتی ہے،

ابنا: بیرونی وسائل سے رقم نہ آنے کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کا بوجھ بینکاری نظام پر بہت زیادہ پڑ گیا ہے جس سے نجی شعبے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے، بینک اپنا مالی وساطت کا کردار ادا کرنے سے گریز کررہے ہیں، حالےہ اعداد و شمار بتا رہے ہےں حکومت اپنی مالیات کو بہتر بنانے کے لئے پیشرفت کررہی ہے۔2012ءکی پہلی سہ ماہی رپورٹ مےں کہا گےا ہے کہ 12ء کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.2 فیصد تھا جبکہ پچھلے سال کی اسی سہ ماہی میں 1.5 فیصد رہا تھا۔

بجٹ خسارے میں یہ کمی زیادہ تر وفاقی بورڈ آف ریونیو کے محاصل میں 29.7 فیصد اضافے سے آئی جس کا سبب ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوششوں میں تیزی اور درآمدات سے آنے والے بلند تر محاصل تھے۔ غیر ٹیکس محاصل میں بھی 50.4 فیصد کی متاثر کن نمو ہوئی تاہم وفاقی بورڈ آف ریونیو کے محاصل میں موسمی رجحانات کی بنیاد پر آخر دسمبر 2011ءتک جمع کردہ رقم 1952.3 ارب روپے کے سالانہ ہدف کی تکمیل کے لیے درکار رقم سے کم ہے۔

آخر سال کے محاصل کے اہداف کو پورا کرنے کا انحصار اتحادی سپورٹ فنڈ کی آمد اور تھری جی لائسنسوں کی فروخت (لگ بھگ 150.0 ارب روپے) پر ہوگا جس کے بغیر حکومت کے لیے بجٹ خسارے کو سالانہ ہدف کے اندر رکھنا مشکل ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے وفاقی حکومت نے صوبوں کی جانب سے بجٹ میں 125.0 ارب روپے کا فاضل فنڈ مختص کیا ہے تاہم صوبوں کے اخراجات میں 52.8 فیصد اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں وہ 12ءکی پہلی سہ ماہی تک صرف 11.6 ارب روپے فاضل کا انتظام کر پائے جو پچھلے سال کی اسی مدت کی نسبت 85.7 فیصد کم تھا۔صوبوں کی جانب سے ڈالے جانے والے حصے میں کمی سے مالیاتی خسارے کا ہدف مزید دشوار ہوجائے گا۔نومبر 2011ءکے آخر تک بینکاری نظام سے حکومتی قرض گیری 736.8 ارب روپے تھی جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں 336.1 ارب روپے رہی تھی۔ اس رقم میں پی ایس ای کے قرضے (PSE debt) کی واپسی کے لیے بینکوں سے لیے گئے 391.0 ارب روپے شامل ہیں۔ یہ قرضہ اب حکومت کے کھاتوں میں منتقل ہوگیا ہے۔

بدقسمتی سے پی ایس ایز مسلسل وسائل کے زیاں کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ تشکیل نو کا کوئی معتبر منصوبہ عمل میں نہیں لایا گیا۔ نتیجتاً گردشی قرضے کا مسئلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔12ءکے ابتدائی مہینوں کے دوران سٹیٹ بینک سے قرض گیری کو قابو میں رکھنے کی حکومتی کوششوں سے طلبی گرانی کے دباو کو دور رکھنے میں مدد ملی، غذائی نرخوں میں نرمی سے مزید سہارا حاصل ہوا۔

نتیجے کے طور پر گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت دسمبر 2011ءمیں کم ہوکر یک ہندسی (9.7 فیصد) ہوگئی جبکہ پچھلے دو سال تک یہ دو ہندسی رہی تھی۔2011-12 ءکی اوسط گرانی 12.0 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ہے، اگرچہ سٹیٹ بینک نے نجی شعبے کو تقویت دینے کے لیے پالیسی میں نرمی لانے کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی، تاہم وہ دیگر شعبوں میں کمزوریوں کے نتیجے میں معیشت پر دباو میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ پالیسی ریٹ کو تبدیل نہ کرنے کے تازہ ترین پالیسی فیصلے کے پیچھے دیگر عوامل کے علاوہ 12ءکی پہلی سہ ماہی کے دوران بیرونی کھاتوں میں کمزوری کا بھی ہاتھ تھا۔

2011ءمیں پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ اس کا جاری کھاتہ فاضل پر بند ہوا اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور دیگر بیرونی سرمایہ کاریوں کے فقدان کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر میں خالص اضافہ ہوا۔ تجارتی کھاتے کے جمود اور مالی کھاتے کی ضرر پذیر نوعیت کے پیش نظر مالی سال 2012 ءمیں اس کارکردگی کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا، جاری کھاتے میں مالی سال 12ءکی پہلی سہ ماہی میں جس تیزی سے بگاڑ آیا اس سے بہت سے حلقے چونک پڑے۔ خاص طور پر ستمبر 2011ءمیں صرف جاری کھاتے کا خسارہ 1.0 ارب ڈالر سے زائد تھا۔ ماضی میں پاکستان زر مبادلہ کے ذخائر کے زیاں کے بغیر جاری حسابات کے بڑے خسارے برداشت کرتا رہا ہے کیونکہ مالی کھاتے میں بھرپور رقوم آتی رہیں۔

بدقسمتی سے ملکی کمزوریوں اور بین الاقوامی مالی ہلچل دونوں کی وجہ سے مالی رقوم کی آمد تقریباً بند ہوگئی ہے جس سے معاشی کمزوری بڑھ گئی۔ اگرچہ کچھ مالی رقوم کی آمد متوقع ہے، تاہم جاری حسابات کے خساروں کا کچھ حصہ ذخائر کے ذریعے پورا کیے جانے کا امکان ہے، حکومت کو امید ہے تھری جی ٹیلی مواصلات لائسنس فیس مل جائے گی۔کرنسی کے تبادلہ کے انتظامات سے بھی، جو حال ہی میں ترکی اور چین کے مرکزی بینکوں کے ساتھ طے پائے ہیں، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ملک کے ذخائر پر دباو کم ہوگا۔ تاہم سٹیٹ بینک نظر رکھے ہوئے ہے کہ روپے کا دباو منڈی میں سٹے بازی کی شکل اختیار نہ کرے کیونکہ اس سے خدشات صحیح ثابت ہوجائیں گے۔

لچکدار شرح مبادلہ کا انتظام کرنے میں توازن قائم رکھنا مشکل ہے جہاں ایک طرف معاشی مبادیات فعال ہوں اور دوسری طرف سٹے بازی سٹیٹ بینک روپے میں کسی اضافی تغیر پذیری کو ختم کرنے کے لیے بازار مبادلہ کا بغور جائزہ لیتا رہے گا۔ پالیسی سازوں کو امید تھی۔ 2012 ءمیں ملک بہتر معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ گذشتہ سال معیشت کے لیے مشکل تھا، نہ صرف مالی سال کی ابتدا میں تباہ کن سیلاب کی بنا پر بلکہ بیرونی سرماےہ کاری کے فقدان اور توانائی کی قلت کی وجہ سے بھی۔.........

/169